باب ۱ — فجر کی پہلی آواز
فجر کا وقت تھا — پانچ بج کر بارہ منٹ۔ دریائے چناب کے اوپر دھند اتنی نیچی اتر آئی تھی کہ پانی اور ہوا کے درمیان کوئی سیدھی لکیر باقی نہیں رہی تھی۔ ہوا میں کھجور کے درختوں کی خشک خوشبو تھی، اور اس کے ساتھ ملی ہوئی ادرک اور الائچی کی وہ خوشبو جو "ہدایہ قہوہ" سے ہر صبح سب سے پہلے باہر نکلتی تھی، دکان کے دروازے سے بھی پہلے۔
اندر، لکڑی کی ایک پرانی میز پر، مصحف کھلا پڑا تھا۔ اس کا دایاں کونا اتنا مڑا ہوا تھا کہ کاغذ اب نرم، تقریباً کپڑے جیسا ہو چکا تھا۔ بیچ کے ایک صفحے میں ایک سوکھا ہوا پھول دبا ہوا تھا — اتنا پرانا کہ اس کی رنگت مٹی کے رنگ میں ڈھل گئی تھی۔ کسی نے اسے وہیں چھوڑا تھا، برسوں پہلے، اور پھر کسی کا دل نہیں مانا کہ اسے نکالے۔ جیسے مصحف خود یاد رکھتا ہو کس کس کا ہاتھ اس پر سے گزرا۔
سحر کی آواز مائیک میں گونجی، ہلکی سی لرزتی ہوئی:
"فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ..."
ہر بار جب وہ یہاں تک پہنچتی، اس کی آواز تھوڑی دھیمی ہو جاتی۔ اس کے نانا، قاری یوسف، نے یہ سکھایا تھا — چالیس سال پہلے، اسی میز پر۔ وہ کہتے تھے: "یہ سوال اللہ تم سے غصے میں نہیں پوچھتا، بیٹا۔ یہ محبت سے پوچھتا ہے۔"
باہر، دریا میں، دو ماہی گیر اپنے چپو اٹھائے کھڑے تھے، پانی ان سے ٹپک رہا تھا۔ پل پر ایک آدمی اپنی سائیکل روک کر کھڑا تھا، ایک ہاتھ ہینڈل پر، اور اس کی نظر دھند کے اندر اس ہلکی نارنجی جھلملاہٹ پر تھی جو دکان کی روشنی سے بنتی تھی۔
یہ مصحف قاری یوسف کا اپنا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیوی فاطمہ اسے صاف کرتی رہیں، صبح صبح آ کر۔ پھر حسن چچا آیا — قاری یوسف کا شاگرد، جو اس گھر کا اپنا بیٹا بن گیا — جو ہر فجر آتا رہا، سال در سال، جب تک اس کا اپنا وقت پورا نہیں ہوا۔ اس کے بعد دادی رقیہ نے اسے اپنی گود میں رکھ کر کئی راتیں پڑھا، اپنی انگلیاں اسی مڑے ہوئے کونے پر پھیرتے ہوئے۔
اب وہ سحر کے سامنے کھلا پڑا تھا۔
بگلوں کی ایک جوڑی دریا کے اس پار سے اڑی، ان کی تیز "کاک" دھند کو چیرتی ہوئی گزری۔ سحر نے آیت ختم کی۔ کچھ سیکنڈ خاموشی رہی — صرف کیتلی کے ہلکے ابالنے کی آواز۔
پھر دروازہ کھلا۔
حسّان وہاں کھڑا تھا۔ اس کے کپڑے اس طرح شکن زدہ تھے جیسے بیس گھنٹے سیٹ سے اٹھے بغیر گزارے ہوں۔ اس کے ایک ہاتھ میں — مڑا ہوا، آدھا کھلا — کینیڈا کا بورڈنگ پاس تھا۔
وہ چوکھٹ پر کھڑا رہا، اندر آنے کی ہمت نہیں کی۔ بس کھڑا رہا۔
باب ۲ — دس سال کا فاصلہ
سحر کا ہاتھ مائیک سے ہٹا، لیکن اس کی انگلیاں ابھی بھی میز کے کنارے پر ٹکی رہیں۔
دس سال۔
یہ لفظ اس کے ذہن میں نہیں آیا — اس کی انگلیوں میں آیا، ان کے ذرا سا کانپ جانے میں۔
حسّان نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی نظر پہلے مصحف پر گئی، پھر میز پر، پھر سحر کے چہرے پر — اور وہیں ٹھہر گئی۔
"تم..." اس نے کہا، اور رک گیا۔ باقی جملہ گلے میں ہی رہ گیا۔
کیتلی نے سیٹی دی۔ سحر نے بغیر دیکھے اسے اتار لیا۔ "امی سو رہی ہیں،" اس نے آخر کہا، جیسے یہ اس سوال کا جواب ہو جو کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا۔ "رِدا بھی۔"
حسّان کی نظر مصحف پر واپس گئی۔ "یہ... میں نے اسے آخری بار حسن چچا کے ہاتھ میں دیکھا تھا۔ اُس صبح۔"
اُس صبح کا نام کسی نے نہیں لیا۔
سحر نے پیالے میں چائے ڈالی، اس کے ہاتھ ایک پل کے لیے رک گئے۔ "وہ مجھے سکھاتے تھے،" اس نے کہا، کیتلی کی طرف دیکھتے ہوئے، "کہ جب دل بھاری ہو تو رحمٰن کی آیت دہراؤ۔ ہر نعمت کا سوال۔"
حسّان نے آخرکار ایک قدم اندر رکھا۔ "میں،" اس نے کہا، اور پھر رک گیا۔ اس بار رک جانا خود ایک جواب تھا۔
سحر نے پیالہ اس کی طرف بڑھایا، بغیر کچھ پوچھے۔ حسّان نے پیالہ پکڑا۔ اس کی انگلیاں سحر کی انگلیوں کو چھو گئیں — اتنا چھوٹا لمحہ کہ شاید کسی نے محسوس نہ کیا ہوتا، اگر دونوں کی سانس ایک ساتھ نہ رک جاتی۔
بورڈنگ پاس اس کی دوسری مٹھی سے میز پر گر گیا — چپکے سے، بغیر آواز کے۔
باب ۳ — ایک پرانی پہچان
سیڑھیوں کی لکڑی ایک جانی پہچانی جگہ پر چرچرائی۔ آمنہ نیچے آئیں، اپنی شال کاندھوں پر لپیٹتے ہوئے۔
"حسّان۔" بس اتنا۔ نام، اور اس میں سب کچھ۔
"خالہ،" اس نے کہا، سر جھکاتے ہوئے۔
آمنہ مصحف کی طرف بڑھیں، اس کا کنارہ چھوا، پھر جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ "حسن چچا اسے بالکل اسی طرح کھلا چھوڑا کرتے تھے۔ کہتے تھے مصحف کو بند نہیں کرنا چاہیے جب تک اللہ کا کلام دل میں بھی کھلا نہ ہو۔"
سعاد پچھلے دروازے سے اندر آئی، خبز کا تھیلا لیے۔ حسّان کو دیکھ کر رک گئی، پھر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی، "اوہ۔ دس سال، اور پہلا کام یہ — صبح صبح سب کو صدمے میں ڈالنا؟"
"سعاد،" سحر نے ایک نظر دی۔
"اچھا، ٹھیک ہے، میں کچھ نہیں بولتی۔" سعاد نے تھیلا میز پر رکھا، پھر بھی اس کی آنکھیں مسکراتی رہیں۔
"میں صرف..." حسّان نے کہا، "مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا میں یہاں کھڑا ہوں۔"
آمنہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ چولہے کی طرف گئیں اور حسّان کے لیے ایک اور پیالہ رکھ دیا، اتنی آہستگی سے کہ آواز بھی نہ ہوئی۔
خبز کی خوشبو، تازہ اور گرم، کمرے میں پھیلنے لگی۔
✦ ✦ ✦