← Back to Products
اردو ناول

بھیڑیے کی روح

مصنفہ: ثانیہ انتظار

ہر روح کی ایک کہانی ہوتی ہے... اور ہر کہانی کے پیچھے ایک اور۔

بھیڑیے کی روح - اردو ناول کور، از ثانیہ انتظار

$2.99

✓ Added to cart

باب اول: قبرستان کی رات

پورنیما کی رات تھی۔ چاند اتنا روشن تھا کہ دیوسائی کی وادی میں برف کی چادر چمک رہی تھی، جیسے زمین نے آسمان کو آئینہ دکھایا ہو۔ لیکن پرانے قبرستان میں اندھیرا تھا۔ گھنے درختوں کا سایہ ہر قبر کو چھپا رہا تھا، جیسے یہ اندھیرا کوئی راز دفن کرنے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔

روح سانس روکے قبرستان کی دیوار کے پیچھے چھپی کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی۔ پندرہ برس بعد وہ واپس آئی تھی، صرف اس مٹی کو دیکھنے کے لیے جس نے اسے سب سے پہلے پہچانا تھا۔

تبھی قبرستان سے ایک آواز سنائی دی۔ کوئی رو رہا تھا، ہلکا ہلکا۔

"یہ انسان کی آواز نہیں ہے،" روح نے دل ہی دل میں سوچا۔

یہ بھیڑیے کے رونے جیسی لمبی، درد بھری آواز تھی، جیسے کسی نے اس سے جینے کی ساری وجہ چھین لی ہو اور پھر اسے یہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہو۔

روح کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دیوار کے اوپر سے جھانکا۔

چاند کی روشنی ایک پرانی، بےنام قبر پر پڑ رہی تھی، صرف ایک پتھر پر بھیڑیے کے پنجے کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس قبر کے پاس ایک مرد بیٹھا تھا۔ اونچے کندھے، شال اوڑھے، سر جھکائے، کالی شال میں لپٹا۔ اس کا نام زیان تھا۔

اس کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا۔ لیکن اس کا سایہ دو تھا۔

روح نے آنکھیں ملیں، شاید کوئی غلط فہمی ہو۔ لیکن نہیں، زمین پر واقعی دو سائے تھے۔ ایک سایہ انسان کا تھا، دوسرا بھیڑیے کا۔ اتنا بڑا بھیڑیے کا سایہ روح نے کبھی نہیں دیکھا تھا، حالانکہ وہاں کوئی بھیڑیا موجود نہیں تھا۔ جیسے ایک ہی انسان کے دو سائے ہوں: ایک جو قبر کے سامنے جھکا ہوا تھا، اور دوسرا جو کبھی نہیں جھکتا تھا۔

پھر وہ آدمی قبر کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ قبر کی مٹی پر رکھا۔ اس کی آواز بھاری تھی، جیسے برسوں بعد بولی ہو۔

"دس برس ہو گئے زویا... دس برس۔ تم نے کہا تھا پورنیما کو لوٹ آؤ گی۔ ہر پورنیما میں یہاں آتا ہوں۔ آج بھی مٹی سونگھتا ہوں۔ لیکن..."

وہ چپ ہو گیا۔ پھر آہستہ سے بولا: "اس قبر سے تمہاری خوشبو نہیں آتی۔"

روح کی سانس اٹک گئی۔

اچانک وہ مرد بھیڑیے میں بدل گیا۔ روح خوف سے سکڑ گئی۔ بھیڑیا قبر کے پاس بیٹھ کر رونے لگا، بالکل انسان کی طرح۔

روح یہ منظر دیکھ کر ڈر گئی۔ اس کا پاؤں ایک سوکھی لکڑی پر پڑا۔ لکڑی چٹخی۔

بھیڑیے کو کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ خوف کے مارے روح کے ہاتھ سے تصویر گر گئی، سوکھے پتوں پر۔ رونے کی آواز اور بلند ہو گئی۔

بھیڑیا آواز کا تعاقب کرتا آگے بڑھا۔ تبھی اچانک کہیں سے ایک اور آدمی نمودار ہوا۔

اس کا چہرہ کچھ کچھ زیان جیسا تھا، لیکن آنکھوں میں نرمی نہیں تھی، زہر تھا۔ یہ بریل تھا۔ اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔ اچانک وہ ہوا سونگھنے لگا، اور ہلکی سی خوشبو محسوس کرتے ہی اسے جھٹکا لگا۔ وہ حیران رہ گیا۔

"ز... زویا... زویا واپس آ گئی؟" اس کی زبان سے بس یہی نکل سکا۔

اپنی حیرانی کو ہنسی کے پیچھے چھپاتے ہوئے وہ بولا: "دیکھو تو کون آیا ہے۔ دس برس بعد قبر کی مٹی کی خوشبو بدل گئی۔ زیان، لگتا ہے تمہاری زویا واپس آ گئی۔"

یہ سنتے ہی زیان نے بریل کی طرف دیکھا۔ بریل نے انگلی سے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ زیان نے اس طرف دیکھا: ایک لڑکی دیوار کے پیچھے کھڑی تھی، ڈری ہوئی، کانپتی ہوئی۔

زیان کی خوشبو کی حس نے تصدیق کر دی۔ وہ سکتے میں آ گیا۔

"زویا... میری زویا واپس آ گئی۔"

اس کے الفاظ برف کی طرح جم گئے تھے۔ اس نے بریل کی طرف دیکھا تک نہیں، اس کی ساری توجہ روح پر تھی، جیسے اسے کوئی تحفہ مل گیا ہو۔ زیان نے روح کی طرف بڑھتے اپنے قدم بڑی مشکل سے روکے، پھر آہستہ سے بولا، لیکن آواز میں گرج تھی: "تو یہاں کیا کر رہا ہے بریل؟ میں نے تجھے اپنے علاقے سے نکال دیا تھا نا۔"

"تیری کمزوری دیکھنے آیا تھا،" بریل نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ "دس سال سے ایک قبر کو رو رہے ہو سردار۔ ایسا تو نہیں ہوتا نا؟" اس نے زیان کے لہجے کی نقل اتاری۔ "قبیلے کو سردار چاہیے، کوئی پیار میں ہارا ہوا انسان نہیں۔"

اس سے پہلے کہ زیان کچھ کہتا، بریل نے دیوار کے پیچھے کھڑی روح کو آواز دی: "لڑکی، باہر نکلو۔ ورنہ میں خود تمہیں نکالوں۔"

کچھ دیر بعد وہ مسکرا کر بولا: "سوچنے کی بات ہے زویا۔ تم تو ان سالوں میں بہت ڈرپوک ہو گئی ہو گی۔ کیا تم آج پہلی بار ہمیں لڑتے دیکھ رہی ہو؟ یا آج پہلی بار کسی انسان کو بھیڑیا بنتے دیکھ رہی ہو؟ کبھی ایسا بھی تھا کہ تم سے زیان بھی ڈرتا تھا، کہ کہیں تم اسے چھوڑ کر نہ چلی جاؤ۔ لیکن پھر وہی ہوا..."

اس کا قہقہہ پورے قبرستان میں گونج اٹھا۔ روح، جو دیوار کے پیچھے تھی، اب باہر نکل آئی۔ آج وہ پہلی بار کسی انسان کو بھیڑیا بنتا دیکھ رہی تھی۔ خوف سے اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ بمشکل بول سکی: "م... میں... اپنی ماں کی قبر پر آئی تھی۔"

"ماں کی قبر؟" بریل نے پھر قہقہہ لگایا۔ "جھوٹ! تم سے تو زویا کی خوشبو آ رہی ہے۔" اس نے زیان کی طرف دیکھا۔ "دیکھو زیان، تمہاری زویا کی روح کسی اور جسم میں واپس آ گئی۔ یا پھر یہ کوئی چال ہے۔"

زیان نے قدم روح کی طرف بڑھایا۔ برف اس کے پیروں تلے دبتی جا رہی تھی۔ وہ روح کے بالکل سامنے، تین قدم کے فاصلے پر آ کر رک گیا۔

اس نے پہلے روح کے چہرے کو دیکھا، پھر اس کے ہاتھوں کو، پھر زمین پر گری تصویر کو۔ آنکھیں بند کر کے اس نے لمبی سانس لی، جیسے کسی بھولی ہوئی خوشبو کو یاد کر رہا ہو۔ آنکھ کھولی تو اس میں حیرت تھی، درد تھا، اور آگ بھی۔

"یہ قبر میری زویا کی ہے۔" اس کی آواز میں دس برس کا بوجھ تھا۔ "دس برس سے میں ہر پورنیما کو اس مٹی کو سونگھتا آ رہا ہوں۔ اب تک اس میں سے صرف موت کی خوشبو آتی تھی۔"

اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ "مگر آج، تمہارے آتے ہی، اس مٹی سے زندگی کی خوشبو آ رہی ہے۔ بارش کے بعد کی مٹی کی خوشبو۔ جنگلی پھولوں کی خوشبو۔ زویا کی خوشبو۔"

اب صرف ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ زیان نے ہاتھ اٹھایا۔ روح پیچھے ہٹنا چاہتی تھی، لیکن اس کی ٹانگ نہیں ہل رہی تھی۔ اس نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔

لیکن زیان نے اسے چھوا نہیں۔ ہاتھ روح تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا۔

"تم کون ہو لڑکی، کہ تمہارے جسم سے میری زویا کی روح کی خوشبو آ رہی ہے؟"

روح خوف اور سردی، دونوں سے کانپ رہی تھی۔ زیان یہ محسوس کر گیا۔ اس نے اپنے کندھوں سے شال اتار کر روح کے کندھوں پر ڈال دی۔

روح کچھ بول نہیں پا رہی تھی، جیسے کسی بت میں بدل گئی ہو۔ وہ پیچھے ہٹنا چاہتی تھی، مگر ٹانگوں نے ساتھ نہ دیا۔

زیان نے بریل کی طرف دیکھا۔ اس کی نیلی آنکھ میں اب درد نہیں، برف تھی۔ "میری زویا کے نام پر زبان سنبھال کر بات کر بریل، ورنہ اس قبرستان میں ایک قبر اور بنے گی۔ تیری۔"

پھر وہ روح کی طرف مڑا، آواز نرم پڑ گئی مگر بوجھ وہی رہا: "میرے اندر کا بھیڑیا دس برس بعد، آج پہلی بار جاگا ہے۔ اور وہ کہہ رہا ہے تم زویا نہیں ہو، مگر تمہاری روح میری زویا کی روح ہے۔"

بریل پیچھے سے بولا: "اس سے دور رہو زیان، یہ میری ہے۔ میں نے پہلے دیکھا ہے اسے۔ قبیلے کا قانون ہے، جو پہلے دیکھے..."

زیان نے پلٹ کر بریل کو نہیں دیکھا۔ بس گرجا، اتنی گرج کہ درختوں سے برف گر گئی: "خاموش۔"

ایک لفظ۔ صرف ایک لفظ۔ لیکن اس میں اتنا قہر تھا کہ بریل کے قدم رک گئے۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

✦ ✦ ✦

بریل کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ دس برس میں اس نے زیان کو اس لہجے میں بولتے نہیں سنا تھا۔ یہ زیان نہیں تھا، یہ الفا تھا، جنگل کا بادشاہ، جس کی ایک دہاڑ سے بھیڑیے بے چین ہو جاتے تھے۔

بریل نے قدم پیچھے لیا۔ لرزتی مٹھیاں ڈھیلی پڑ گئیں، مگر آنکھ میں زہر اب بھی تھا۔ دبی آواز میں بولا: "زیان، تم بھول رہے ہو۔ تمہاری زویا کو مرے دس برس ہو گئے۔ قبیلے کے قانون کے مطابق جوڑا ایک بار ہی ملتا ہے۔ یہ لڑکی، یہ چال ہے تمہارے خلاف۔"

زیان نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس کی نظر روح پر تھی، جو دونوں بھیڑیوں کے بیچ سمٹ کر کھڑی تھی، سانس تیز، آنکھوں میں حیرت اور کئی سوال۔

زیان نے لفظ بہ لفظ، مگر اتنی اونچی آواز میں کہا کہ ہر قبر سن لے: "میں نے کہا، خاموش ہو جاؤ بریل۔ اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔"

بریل سائے میں یوں گم ہو گیا جیسے سائے میں گھل گیا ہو۔

اس کے جانے کے بعد زیان روح کی طرف مڑا۔ "اپنے گھر جاؤ روح۔ رات گہری ہے۔ بھیڑیے جنگل میں نکلتے ہیں۔"

روح نے قدم پیچھے لیا، پھر رکی، پلٹ کر پوچھا: "اور آپ؟ آپ نہیں جائیں گے؟"

زیان نے قبر کی طرف دیکھا، پھر چاند کی طرف، پھر روح کی طرف۔ "میں یہاں ٹھیک ہوں۔ تم جاؤ۔"

روح آگے بڑھنے لگی، پھر رکی، اور کچھ دور جا کر پلٹ کر بولی: "شال..."

زیان نے تھوڑی دیر بعد کہا: "تم رکھ لو۔ تمہیں زیادہ ضرورت ہے۔"

روح نے شال اور کس لی اور برف میں اپنے ننگے پاؤں کے نشان چھوڑتی ہوئی قبرستان کے دروازے سے باہر نکل گئی۔ زیان وہیں کھڑا رہا، جب تک روح کے قدموں کی آواز آنی بند نہ ہو گئی۔

پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کئی سالوں بعد، پہلی بار اس نے چاند سے کوئی شکایت نہیں کی۔ بس آہستہ سے کہا، جیسے یہ بات صرف چاند کے لیے ہو: "شکریہ، کہ تم آج اکیلا نہیں آیا۔"

✦ ✦ ✦

🔒 کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی...

زیان کون ہے؟ روح کے جسم سے زویا کی خوشبو کیوں آتی ہے؟ کیوان کا اصل راز کیا ہے؟ باقی 8 ابواب میں محبت، معافی اور خود کی تلاش کی یہ کہانی مکمل ہوتی ہے۔